نیویارک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بلوچستان کے علاقے خضدار میں سکول بس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سلامتی کونسل کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ بزدلانہ اور سنگدلانہ تھا، جس میں 6 افراد شہید ہوئے جن میں 4 طالبات شامل ہیں، جبکہ 53 افراد زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر سکول کے بچے ہیں۔ سلامتی کونسل نے پاکستان کے عوام، حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ ہر قسم کی دہشت گردی عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس میں ملوث تمام افراد، سہولت کار، منصوبہ ساز اور مالی مدد فراہم کرنے والوں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت پاکستان سے مکمل تعاون کریں۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی یکجہتی اور تعاون کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی کا کوئی بھی عمل کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر، پولینڈ نے بھی خضدار میں سکول کے بچوں پر دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے۔ پولش سفیر مکیج پسارسکی نے کہا کہ معصوم جانوں کو نشانہ بنانے والا یہ حملہ ناقابل قبول ہے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن کے لیے پولینڈ کے عزم کا اعادہ کیا۔