اسلام آباد : ڈی جی آئی ایس پی آر پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کی ریاستی پالیسیوں نے پاکستان کے امن کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور "فتنہ الہندوستان" کے نام سے جاری سرگرمیاں اس کی واضح مثال ہیں۔

اسلام آباد میں سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت گزشتہ دو دہائیوں سے ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے دہشتگرد عناصر کو مالی و عملی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں ہتھیار ڈالنے والے بعض دہشتگردوں نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ انہیں بیرونی سرپرستی حاصل تھی، اور ان بیانات سے بھارت کا کردار واضح طور پر سامنے آیا ہے۔
سیکرٹری داخلہ خرم آغا نے خضدار کے حالیہ افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 21 مئی کو ہونے والے دہشتگرد حملے میں سکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا، جو دشمن کے غیر انسانی عزائم کا ثبوت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ریاست ایسے عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے جائیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خرم آغا نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کو ان کے سنگین جرائم کے خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ایسے عناصر سے سختی سے نمٹے گی جو معصوم شہریوں، خاص طور پر بچوں، کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ خرم آغا نے مزید کہا کہ بلوچستان سمیت پورے ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی ادارے پوری طرح پرعزم اور متحرک ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے ریاستی دہشتگردی کو بطور پالیسی استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد سے بھارت مسلسل وطن عزیز کے خلاف سرگرم ہے، اور مکتی باہنی کی سرپرستی سے لے کر سقوط ڈھاکا تک کے واقعات اس کی واضح مثال ہیں۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت گزشتہ 20 برسوں سے دہشتگرد عناصر کی مالی و عملی معاونت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خضدار حملے میں ملوث دہشتگردوں نے تفتیش کے دوران بھارتی پشت پناہی کا اعتراف کیا ہے، اور "فتنہ الہندوستان" کے نیٹ ورک کے کردار کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ گرفتار دہشتگردوں نے بتایا کہ انہیں پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے بھارتی اداروں کی جانب سے فنڈز اور تربیت فراہم کی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے 2009 اور 2016 میں بین الاقوامی فورمز پر بھارتی ریاستی دہشتگردی کے ٹھوس شواہد پیش کیے، جن میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا اعترافی بیان بھی شامل ہے۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ خضدار حملے میں زخمی ہونے والے کئی بچے تاحال ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن کی مکمل دیکھ بھال ریاستی سطح پر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردوں کو ان کے جرائم کی سزا ضرور دی جائے گی، اور پاکستان دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ہر سطح پر ناکام بنایا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والی دہشت گرد تنظیم "فتنہ الہندوستان" ہے، جس کا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام بھی سوال کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا بلوچستان یا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گرد درندے ہندوستان کی مالی مدد سے بربریت کر رہے ہیں اور جدید اسلحہ بھی انہی سے حاصل کرتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ ایسے مہنگے اور جدید ہتھیار انہیں کون فراہم کرتا ہے؟۔
ترجمان پاک فوج نے مزید بتایا کہ 25 اپریل کو جہلم سے گرفتار کیے گئے دہشت گرد نے لاہور سے بلوچستان تک مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کا اعتراف کیا ہے۔ ان دہشت گردوں کی جانب سے جدید اور مہنگے اسلحہ کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 اکتوبر کو کراچی میں چینی باشندوں پر حملے کے بارے میں بھارتی میڈیا کو پہلے سے آگاہ کیا گیا تھا اور جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد بھارتی میڈیا نے جشن منایا، جو ان حملوں کے پیچھے سازش کی نشاندہی کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی میجر سندیپ کے بیان سے واضح ہو گیا ہے کہ بھارت بلوچستان سے لے کر لاہور تک دہشتگردی کرانے میں ملوث ہے۔ میجر سندیپ کے اعتراف نے یہ حقیقت بے نقاب کی ہے کہ کس طرح بھارت پاکستان کے اندر دہشتگرد سرگرمیاں چلا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ دہشتگرد تنظیم فتنہ الہندوستان نے حیوانیت کی انتہا کر دی ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان نے ہر فورم پر بھارت سے ثبوت مانگے ہیں لیکن بھارتی حکومت کوئی جواب نہیں دے رہی۔ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں سے مہنگا اور جدید اسلحہ برآمد ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ ہتھیار انہیں کون فراہم کرتا ہے؟
انہوں نے بھارتی میڈیا پر بھی سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ بھارتی میڈیا جھوٹ پھیلانے اور من گھڑت خبریں نشر کرنے میں ملوث ہے، جو اصل صورتحال کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بھارت گزشتہ 20 برسوں سے دہشتگرد عناصر کی مالی و عملی معاونت کر رہا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر