واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کی مصنوعات پر یکم جون سے 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد ٹرانس اٹلانٹک تجارتی تعلقات میں کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی مصنوعات پر براہ راست 50 فیصد ٹیرف کی سفارش کر چکے ہیں، اور اس اقدام کا اطلاق یکم جون سے ہوگا۔ انہوں نے یورپی یونین پر الزام لگایا کہ یہ اتحاد امریکا سے تجارتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا، "یورپی یونین کے ساتھ تجارت کرنا ہمیشہ ایک مشکل عمل رہا ہے۔"
دوسری جانب یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ کے اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات باہمی مذاکرات کے لیے سازگار نہیں اور تناؤ میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ٹیرف عائد کیے تو یورپ جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
فرانسیسی وزیر تجارت نے کہا، "یہ اقدامات تجارتی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں اور عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔"
جرمن وزیر معیشت نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا، "تجارتی جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ ہمیں امریکا کے ساتھ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ امریکی انتظامیہ کی تجارتی پالیسی ایک اسٹریٹجک اور معاشی غلطی ہے، جس کا نقصان دونوں جانب ہوگا۔"
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریقوں نے لچک نہ دکھائی تو یہ تنازعہ عالمی تجارتی نظام کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا واشنگٹن اور برسلز مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے یا ایک نئی تجارتی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔