اسلام آباد / پیرس : پاکستان نے فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، بیلجیئم اور پرتگال کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ ریاست تسلیم کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں بتایا کہ انہوں نے آج فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی، جس کا مقصد فلسطین کے دو ریاستی حل کو عملی شکل دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے فلسطین کو 1988 میں آزادی کے اعلان کے فوراً بعد تسلیم کیا تھا، اور پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کا حق اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ملنا چاہیے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جو ممالک اب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کر سکے، انہیں بھی آگے بڑھ کر بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنا چاہیے تاکہ خطے میں ایک منصفانہ سیاسی حل کی راہ ہموار ہو۔
ادھر کانفرنس کے موقع پر اسحاق ڈار کی کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں کئی مغربی ممالک بشمول برطانیہ، کینیڈا، پرتگال، آسٹریلیا اور فرانس نے فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، جسے پاکستان ایک "خوش آئند اور درست سمت میں قدم" قرار دے رہا ہے۔