Get Alerts

سیاست اور جمہوریت کا راستہ مذاکرات سے ہو کر گزرتا ہے، تصادم سے نہیں: رانا ثنا اللہ

سیاست اور جمہوریت کا راستہ مذاکرات سے ہو کر گزرتا ہے، تصادم سے نہیں: رانا ثنا اللہ

اسلام آباد:  وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیاست اور جمہوریت ڈیڈلاک یا محاذ آرائی سے نہیں بلکہ بات چیت اور ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہیں، اس لیے تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کو مسائل کے حل کے لیے مل بیٹھنا چاہیے۔

اپنے بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف اکانومی کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس میں بھی واضح کیا کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، جبکہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کو چار مرتبہ بات چیت کی دعوت دی جا چکی ہے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی چار سال اقتدار میں رہے، مگر اپنے دور حکومت میں اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا مؤقف رہا کہ وہ نہ این آر او دیں گے اور نہ ہی کسی کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، اور وہ آج بھی مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی سیاست میں مفاہمت، برداشت اور مکالمہ شامل نہیں رہا بلکہ فتنہ، فساد اور انارکی کو فروغ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ اور علیمہ خان کے بیانات بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق 25 مئی 2022، 9 مئی اور 26 نومبر 2024 کے واقعات اسی پالیسی کا تسلسل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال کو قابو میں نہ رکھا جاتا تو رواں سال بھی افراتفری اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کی جاتی۔

لیگی رہنما نے 8 فروری 2026 کو پہیہ جام ہڑتال کے اعلان کو بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔

آخر میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نواز شریف ایک سینئر سیاستدان ہیں جن کا طویل سیاسی تجربہ ہے اور انہوں نے ہمیشہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور مفاہمت کا کردار ادا کیا ہے، جبکہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے تمام فریقوں کا مذاکرات کی میز پر آنا ناگزیر ہے۔

ٹیگز: