ہائپر لوپ ریل: اب دبئی سے ابوظہبی کا سفر صرف نو منٹوں میں ممکن ہو سکے گا

 ہائپر لوپ ریل: اب دبئی سے ابوظہبی کا سفر صرف نو منٹوں میں ممکن ہو سکے گا

اسلام آباد: مستقبل میں دبئی سے ابوظہبی تک کا سفر صرف ’نومنٹ‘ میں طے کر لیا جائے گا۔ دبئی حکومت نے امریکی کمپنی ’ہائپر لوپ ون‘ سے معاہدہ کر لیا ہے اور دنیا میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا منصوبہ ہے، جسے عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ 

دنیا بھر میں نقل وحمل کے تیز ترین ریلوے نظام متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ چند برس پہلے ’ہائپر لوپ‘ ٹرانسپورٹ سسٹم کا منصوبہ متعارف کروایا گیا تھا، جس کے تحت مسافر گیارہ سو پچیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے مسافروں کے لیے سُپرسونک رفتار کی حامل پریشر ٹیوبز بنائی جائیں گی۔  دبئی حکومت نے اس منصوبے کا اعلان دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ میں کیا  گیا تھا۔

لاس اینجلس میں واقع کمپنی ’ہائپر لوپ ون‘ کے سربراہ روب لائیڈ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’آج ہم یہاں ایک تاریخی معاہدہ طے کرنے کے لیے دبئی کے اپنے شراکت داروں (روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی) کے ساتھ ہیں۔‘‘

اس امریکی کمپنی نے رواں برس کے آغاز پر اپنا پہلا تجربہ ایک امریکی صحرا میں کیا تھا اور تب یہ خبریں کسی سائنس فکشن سٹوری سے کم نہ تھیں۔

منصوبہ سازوں کے مطابق اس ٹرین کی تعمیر سے دبئی اور ابوظہبی کا سفر صرف بارہ منٹ میں طے ہو جایا کرے گا۔ گاڑی کی رفتار ایک سو پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ ہو تو ابھی اس سفر کو طے کرنے کے لیے دو گھنٹے سے زائد وقت لگتا ہے۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق ابھی اس حوالے سے کوئی مالی شرائط طے نہیں پائی ہیں اور اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ابھی مزید تجربات کیے جائیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ دبئی اور ابوظہبی کے مابین متعدد ایسے اسٹیشن بھی بنائے جائیں گے، جہاں یہ ٹرین رکا کرے گی۔ اسی طرح دبئی کی سرکاری پورٹ آپریٹر کمپنی ’ڈٰی پی ورلڈ‘ نے بھی ’ہائپر لوپ ون‘ سے ایک معاہدہ کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو دبئی کے صنعتی علاقے جبل علی پورٹ میں استعمال کرنے کے حوالے سے جائزہ لیا جائے۔

تین برس پہلے یہ منصوبہ امریکا میں ایلون مسک کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔ ایلون مسک الیکٹرک کار ساز ادارے ٹیسلا موٹرز اور نجی خلائی ریسرچ فرم ’اسپیس ایکس‘ کے سربراہ ہیں۔ اس منصوبے کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ لاس اینجلس اور سان فرانسسکو کے مابین تقریباﹰ چھ سو کلومیٹر کا فاصلہ صرف پینتیس منٹ میں طے کیا جائے گا۔