واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور کوئی بھی ملک وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر یکطرفہ طور پر ٹول ٹیکس یا اضافی فیس عائد نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل کے لیے اس اہم گزرگاہ میں آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران ایک انقلابی تحریک کی بجائے ایک عام اور ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی برادری کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا فیصلہ کرے تو اس کے لیے معاشی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے وسیع مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی رکاوٹ یا اضافی محصولات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہیں، کیونکہ دنیا کے تیل اور توانائی کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی اور سفارتی رابطوں پر عالمی توجہ مرکوز ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور جہاز رانی کی آزادی بھی بین الاقوامی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔