بیجنگ: چین نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام متعلقہ فریق اس معاہدے کے تحفظ اور مؤثر عملدرآمد کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی معاہدے نے عالمی برادری کو ایک حوصلہ افزا پیغام دیا ہے اور اس مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
#FMsays In response to the recent signing of a memorandum of understanding between the United States and #Iran, Foreign Ministry spokesman Guo Jiakun said on Wednesday that China has always upheld a fair and impartial stance and it "supports all efforts that are conducive to… pic.twitter.com/cMpSMbaDUo
— China Daily (@ChinaDaily) June 24, 2026
انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ سے علاقائی تنازعات اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے طاقت کے استعمال یا دھمکی کے بجائے بات چیت اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
گو جیاکن نے کہا کہ بیجنگ ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کا باعث بنے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ چین ایران کی خودمختاری، قومی سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کی حمایت جاری رکھے گا۔
چینی ترجمان نے مزید کہا کہ ان کا ملک ایران اور خلیجی ریاستوں سمیت دیگر علاقائی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور تعاون کے فروغ کو بھی مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا نے 14 جون کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد 14 نکاتی مفاہمت کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے اور باہمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا تھا۔
’’اسلام آباد انڈراسٹینڈنگ‘‘ کے نام سے معروف یہ معاہدہ 18 جون کو اس وقت باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا جب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکٹرانک دستخط کے ذریعے اس کی توثیق کی۔
معاہدے میں جنگ بندی سے متعلق اقدامات، لبنان میں استحکام کے فروغ، آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سمیت متعدد اہم نکات شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی جانب سے معاہدے کی حمایت اس سفارتی پیش رفت پر عالمی اعتماد کا اظہار ہے، جسے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔