لاہور: نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (این جی سی) اور لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے آج لاہور میں ایک قومی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد پاور سیکٹر میں انڈیجنائزیشن کے لیے روڈ میپ کی تیاری تھا۔ ورکشاپ میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے آن لائن شرکت کی اور انڈیجنائزیشن کو ملکی معیشت اور توانائی خودکفالت کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

ورکشاپ کے دوران پاکستان کے پہلے پاور ایکوئپمنٹ مینوفیکچرنگ ڈیش بورڈ کا باقاعدہ اجرا کیا گیا، جو مقامی سطح پر پاور سیکٹر آلات کی تیاری، وینڈرز کی صلاحیت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو مانیٹر کرنے کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کی توجہ درآمدات کے بجائے برآمدات پر مبنی معیشت پر ہے، اور پاور سیکٹر میں مقامی پیداوار کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاور سیکٹر کے تمام اداروں کو این جی سی کی انڈیجنائزیشن پالیسی کو اپنانے پر زور دیا۔
ورکشاپ میں چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر، این جی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر انجینئر محمد وسیم یونس، کے الیکٹرک کے سی ای او سید مونس عبداللہ علوی، لمز کے ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری، ڈاکٹر نوید ارشد، ڈاکٹر طارق جدون اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
ڈاکٹر فیاض چوہدری نے بتایا کہ این جی سی کی انڈیجنائزیشن حکمت عملی سے اب تک 10 ملین ڈالر کی زرمبادلہ بچت ہو چکی ہے۔ انجینئر محمد وسیم یونس نے بتایا کہ اب تک مقامی صنعت کو 2 ارب روپے کے ایجوکیشنل آرڈرز جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں 781 ملین روپے صرف گزشتہ تین سالوں کے ہیں۔
ورکشاپ کے اختتامی سیشن میں شریک ماہرین اور پالیسی سازوں نے درآمدی آلات کے مقامی متبادل کی تیاری، ٹیکنالوجی پارٹنرشپ، اور پائیدار پالیسی اقدامات پر مشاورت کی۔ یہ ورکشاپ الیکٹریسٹی پالیسی 2023-2027 کے تحت منعقد کی گئی جو توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور دیرپا استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مقامی صلاحیت کے فروغ کو ترجیح دیتی ہے۔