کوئٹہ :بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 3 فرنٹیئر کونسٹیبلری (ایف سی) اہلکاروں سمیت 14 افراد جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی زد میں آ کر قریب موجود متعدد معصوم خواتین اور بچے بھی زخمی ہوئے ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی شاہد رند نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس بزدلانہ کارروائی میں 14 افراد شہید ہوئے ہیں جن میں فرائض کی ادائیگی پر مامور 3 ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ سے بارودی مواد کے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے بم دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں اور فورسز پر حملے کرنے والے خارجی دہشت گردوں کی یہ بزدلانہ کارروائیاں ملکی استحکام اور عوام کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے ریلوے انفراسٹرکچر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں اور قومی املاک کو نشانہ بنانے والے عناصر کو معاف نہیں کیا جائے گا، ٹریک کی سیکورٹی اور بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ صوبائی قیادت کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے امن و ترقی کو سبوتاژ کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق، بم ڈسپوزل اسکوڈ کی ابتدائی رپورٹ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تخریب کاروں اور ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے اطراف کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔