واشنگٹن / اسلام آباد:امریکی جریدے 'دی نیشنل انٹرسٹ' میں شائع ہونے والے ایک خصوصی مضمون میں پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی سفارتی اور سیکیورٹی طاقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کا اثر و رسوخ اب صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ وسیع تر مشرقِ وسطیٰ تک پھیل چکا ہے۔ابراہیم المراشی اور تانیہ گوڈسوزنین کے مضمون کے مطابق پاکستان اب خطے کے بحرانوں کے حل میں ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ کے مضمون میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ پاکستان علاقائی سفارت کاری کے حاشیے سے نکل کر اب مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں کے انتظام کے مرکز میں آ گیا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تنازعات میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا ہے۔

رپورٹ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اس کا سہرا دیا گیا ہے کہ انہوں نے ہفتوں کی خطرناک کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کرانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ 12 اور 13 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو ایک عظیم سفارتی کامیابی قرار دیا گیا ہے، جہاں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کو براہِ راست گفتگو کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ پاکستان کی عسکری سفارت کاری کو "قابلِ اعتماد، صائب اور مؤثر" قرار دیا گیا ہے۔ یہ ان حالات میں بھی کامیاب ثابت ہوتی ہے جہاں روایتی سفارت کاری کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔ مضمون کے مطابق پاکستانی عسکری قیادت کے پاس وہ نظم و ضبط، تزویراتی نیٹ ورک اور رسائی موجود ہے جو انتہائی خطرناک تنازعات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن کے ساتھ پاکستان کے مضبوط دفاعی تعلقات اسے ایک حقیقی سفارتی وزن فراہم کرتے ہیں۔ پاک، سعودی دفاعی معاہدہ: ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے باہمی دفاعی معاہدے کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار کا ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے استحکام میں بھی فعال دکھایا گیا ہے، جس میں غزہ جنگ بندی کے نفاذ میں معاونت اور مستقبل میں بین الاقوامی امن فوج کا حصہ بننے کا امکان شامل ہے۔ مضمون کے مطابق پاکستان نے اس سفارتی خلا کو پُر کر دیا ہے جو روایتی ثالثوں کی کمزوری، علاقائی تقسیم اور اقوامِ متحدہ کی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔
یہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کا اعتراف ہے۔ یہ پاکستان، بالخصوص اس کی عسکری قیادت کو ایک سنجیدہ اور بااثر کھلاڑی کے طور پر پیش کرتا ہے جو شدید ترین بحران کے لمحات میں عالمی طاقتوں اور حریفوں کو ایک میز پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اس کی سفارتی رسائی، عسکری ساکھ اور مشرقِ وسطیٰ کے امن میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی ایک بڑی عالمی پہچان ہے۔