Get Alerts

افغانستان میں 'صنفی تفریق' انتہا پر: طالبان حکومت خواتین پر ظلم و ستم کی عالمی علامت قرار

افغانستان میں 'صنفی تفریق' انتہا پر: طالبان حکومت خواتین پر ظلم و ستم کی عالمی علامت قرار

نیویارک : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں افغانستان میں خواتین کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان رجیم کو خواتین کے حقوق پامال کرنے والا بدترین نظام قرار دے دیا گیا ہے۔ سابق جرمن وزیر خارجہ اور اجلاس کی صدر انالینا بیئربوک نے افغان خواتین کے خلاف اقدامات کو "منظم انسانی استحصال" قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں خطاب کرتے ہوئے انالینا بیئربوک نے طالبان کی پالیسیوں کو عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ ان کے خطاب کے اہم نکات یہ تھے۔بچیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمت پر پابندی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔
خواتین پر پابندیاں لگا کر طالبان حکومت بین الاقوامی انسانی امداد کی فراہمی میں بھی خود رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ماہرین کے مطابق افغانستان میں خواتین کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک "جینڈر اپارتھائیڈ" (Gender Apartheid) ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر سنگین جرم تسلیم کیا جانا چاہیے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے خواتین کو گھروں میں محصور کر کے ان کی سماجی اور معاشی زندگی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کو اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ افغان خواتین کو ان کے بنیادی حقوق دلوانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔
انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کی تعلیم اور کام پر عائد پابندیاں فوری ختم کی جائیں، ورنہ افغانستان عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔

ٹیگز: