Get Alerts

 سپریم کورٹ نے نیب اپیلوں کا دائرۂ اختیار واضح کر دیا:30 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری

 سپریم کورٹ نے نیب اپیلوں کا دائرۂ اختیار واضح کر دیا:30 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری


اسلام آباد :سپریم کورٹ نے نیب مقدمات میں دوسری اپیلوں اور ان سے متعلق درخواستِ ضمانت کے فورم سے متعلق اہم آئینی تنازع کا فیصلہ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے مقدمات کی دوسری اپیل اور اس سے جڑی تمام ضمنی کارروائیوں کا مجاز فورم وفاقی آئینی عدالت (FCC) ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 24 جولائی 2026 کو جاری اپنے 30 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم اور قومی احتساب آرڈیننس میں شامل کی گئی دفعہ 32-A کے بعد نیب مقدمات کی دوسری اپیلوں کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکا ہے۔ عدالت کے مطابق درخواستِ ضمانت مرکزی مقدمے سے الگ یا آزاد کارروائی نہیں بلکہ اسی مقدمے کا ضمنی حصہ ہے، اس لیے اصل اپیل اور ضمانت کی درخواست دو مختلف اعلیٰ عدالتوں میں نہیں چل سکتیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 175F اور قومی احتساب آرڈیننس کی متعلقہ دفعات کو یکجا پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ نیب مقدمات سے متعلق تمام متعلقہ کارروائیاں ایک ہی قانونی فورم، یعنی وفاقی آئینی عدالت، کے دائرۂ اختیار میں آئیں گی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر اپیل وفاقی آئینی عدالت میں ہو اور ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ میں سنی جائے تو متوازی کارروائی، قانونی ابہام اور متضاد فیصلوں کا خدشہ پیدا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ اصول بھی واضح کیا کہ عدالتی دائرۂ اختیار فریقین کی رضامندی، سابقہ عدالتی روایت یا کسی ادارے کے اعتراض نہ اٹھانے سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ نیب مقدمات میں اپیل کا حق ختم نہیں ہوا بلکہ نئے آئینی و قانونی نظام کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیا گیا ہے، جہاں سزا یافتہ افراد اور نیب دونوں کو یکساں قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔

ٹیگز: