Get Alerts

سپر ٹیکس انکم ٹیکس سے علیحدہ اور قانونی ہے، وفاقی آئینی عدالت کا 293 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری

سپر ٹیکس انکم ٹیکس سے علیحدہ اور قانونی ہے، وفاقی آئینی عدالت کا 293 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا بڑا فیصلہ سناتے ہوئے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4-C کو مکمل طور پر آئینی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے 293 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سپر ٹیکس، انکم ٹیکس سے ایک الگ حیثیت رکھتا ہے اور پارلیمنٹ اس کے نفاذ کا مکمل قانونی و آئینی اختیار رکھتی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں سرکلر جاری کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا یہ حکم اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھا، لہٰذا اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔    اطلاق کی مدت: عدالت نے حکم دیا ہے کہ سپر ٹیکس کا اطلاق ٹیکس سال 2022 سے ہوگا، جس سے حکومت کو واجب الادا ٹیکسوں کی وصولی میں بڑی مدد ملے گی۔
 فیصلے کے مطابق، سرمایہ میں اضافہ (Capital Gains) اور مخصوص قسم کی آمدن (Specific Income) سپر ٹیکس کے دائرہ کار میں آئے گی۔    عدالت نے قرار دیا کہ ریاست کے مالیاتی امور اور ٹیکسوں کے ڈھانچے میں ترمیم یا نئے ٹیکس کا نفاذ پارلیمنٹ کا بنیادی حق ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے وفاقی حکومت کو اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوگا جو مختلف قانونی چارہ جوئیوں کی وجہ سے رکا ہوا تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے کے ذریعے ٹیکس قوانین کی تشریح کے حوالے سے موجود ابہام کو ختم کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ مخصوص آمدن رکھنے والے طبقات پر اضافی ٹیکس کا نفاذ آئین کے عین مطابق ہے۔

ٹیگز: