Get Alerts

پاکستان امریکا سے امداد نہیں بلکہ تجارت چاہتا ہے: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

پاکستان امریکا سے امداد نہیں بلکہ تجارت چاہتا ہے: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا سے مالی امداد کی خواہش نہیں رکھتا بلکہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے اٹلانٹک کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان امریکی مصنوعات کو ملکی منڈیوں میں مزید رسائی دینے جا رہا ہے اور بہت جلد امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور پاکستان ایک امن پسند ایٹمی ملک ہے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے دو طرفہ شراکت داری پر زور دیا اور پاک بھارت کشیدگی میں امریکا کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت دباؤ میں ہے اور مہنگائی کی شرح کم ہو رہی ہے، حکومت نے سنبھالنے کے بعد متعدد اقتصادی چیلنجز کا سامنا کیا تاہم اب پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا ہے۔ دہشت گردی اب بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے نمٹنا ضروری ہے۔

نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امریکا سے امداد نہیں بلکہ تجارت کا خواہاں ہے اور بہت جلد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا جائے گا۔ پاکستان اپنی برآمدات کا بڑا حصہ امریکا کو بھیجتا ہے اور اب امریکی مصنوعات کو ملکی مارکیٹ میں مزید رسائی دی جائے گی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں تنازعات کے پرامن حل کا خواہاں ہے اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو کثیرالجہتی اور مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے افغانستان میں امن کو پاکستان کے مفاد میں قرار دیا اور کہا کہ بیت المقدس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب اسلحہ اٹھا لیا جائے تو مفاہمت مشکل ہو جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کے 126 روزہ دھرنے نے معیشت کو نقصان پہنچایا، اور کسی بھی سیاسی رہنما کا مقبول ہونا اسلحہ اٹھانے کا جواز نہیں بن سکتا۔ سانحہ 9 مئی کے حوالے سے قانون اپنا کام کرے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ عمران خان کے خلاف تمام کیسز موجودہ حکومت نے نہیں بنائے، یہ مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ امریکا میں قانونی عمل کے تحت قید ہیں۔

ٹیگز: