واشنگٹن:وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوہری و بحری دفاعی صلاحیتیں بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔
پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ ایران کے خلاف جاری "آپریشن ایپک فیوری" مجموعی طور پر چار سے چھ ہفتوں کے دورانیے پر محیط ہے اور آج اس جنگ کا 25واں دن ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے اب تک ایران میں ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد ایرانی قیادت اب موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ تلاش کر رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں ایسی قیادت دیکھنا چاہتے ہیں جو امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرے اور "امریکہ مردہ باد" جیسے نعروں پر مبنی دشمنی کی پالیسی کو ترک کر دے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ گزشتہ چند دنوں سے ایرانی حکام کے ساتھ "مثبت اور نتیجہ خیز" مذاکرات میں بھی مصروف ہیں، تاہم اگر ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لائی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں کیرولین لیوٹ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف اس بڑی جنگی کارروائی کے لیے کانگریس کی باضابطہ منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا صدر ٹرمپ ملکی مفاد میں یہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں اب کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ انتظامیہ تمام امور آئینی تقاضوں کے مطابق انجام دے رہی ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ جنگ شروع کرنے سے قبل کانگریس کے اہم رہنماؤں کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور اب بھی قانون سازوں کو صورتحال سے مسلسل آگاہ کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کانگریس کا اختیار ہے، لیکن حال ہی میں کانگریس نے صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے والی تمام قراردادیں مسترد کر دی تھیں۔
وائٹ ہاؤس نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران نے فوری طور پر امریکی شرائط پر جنگ بندی کی درخواست نہ کی تو سخت فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی، جس کا مقصد ایران کی عسکری قوت کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانا ہے۔