واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں، عالمی سیاست اور داخلی معاملات پر انتہائی سخت اور اہم بیانات جاری کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے میڈیا کے ایک حصے پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ میدانِ جنگ میں فتح کے قریب ہے اور مخالفین کا پروپیگنڈا حقائق کے برعکس ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اب ان کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں بچا۔ انہوں نے "فیک نیوز" کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہامیڈیا ایسا تاثر دے رہا ہے جیسے امریکہ جنگ ہار رہا ہو، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم نے دنیا میں 8 جنگیں ختم کرائیں اور اب ایک اور جنگ جیتنے کے قریب ہیں۔"
صدر نے مزید انکشاف کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے 100 سے زائد میزائلوں کو ناکام بنایا جو اہم اہداف کی طرف بڑھ رہے تھے۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ B-2 بمبار طیاروں نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس سے ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں۔ انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ایرانی فوجی قیادت کو پہلے ہی ناقابل تلافی دھچکا پہنچ چکا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اب پسِ پردہ "بے تابی" سے ڈیل کی کوشش کر رہا ہے لیکن کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔ انہوں نے دو ٹوک وارننگ دیتے ہوئے کہااگر ایرانی قیادت نے ڈیل سے انکار کیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ڈیل کی صورت میں بھی ایرانی قیادت کو اپنے ملک کے اندر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر نے سابق صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کی پالیسیوں کو ملکی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ داخلی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایئرپورٹس پر امیگریشن حکام کی تعیناتی سے پروازوں میں تاخیر کا مسئلہ حل کر دیا گیا ہے، ضرورت پڑنے پر نیشنل گارڈز بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے ڈیموکریٹس پر الزام لگایا کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کو فنڈنگ نہ ملنے سے ٹی ایس اے (TSA) عملہ متاثر ہوا۔