Get Alerts

'آپریشن وعدہ صادق 4' کی 81 ویں لہر؛ ایران کے مہلک میزائلوں نے اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں کو دہلا دیا

'آپریشن وعدہ صادق 4' کی 81 ویں لہر؛ ایران کے مہلک میزائلوں نے اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں کو دہلا دیا

تہران/تل ابیب : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس وقت ایک نیا اور خطرناک موڑ اختیار کر لیا جب ایران نے اسرائیل کے خلاف اپنے بڑے فوجی معرکے 'آپریشن وعدہ صادق 4' کی 81 ویں لہر کا آغاز کر دیا۔ اس تازہ ترین حملے نے نہ صرف دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا ہے بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس آپریشن میں اپنے تین انتہائی مہلک اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا۔
    عماد (Emad): جو اپنی درست نشانے بازی کے لیے جانا جاتا ہے۔

    قیام (Qiam): جو ریڈار کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    خرمشہر (Khorramshahr): جو بھاری وار ہیڈز کے ساتھ بڑی تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


ایران نے اس بار اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے حملوں کا دائرہ کار صرف اسرائیل تک محدود نہیں رکھا۔ اطلاعات کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے یہ تنازع ایک عالمی جنگ کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب ان حملوں کا بنیادی ہدف رہا۔ میزائل گرنے کے نتیجے میں اب تک 200 سے زائد اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ متعدد عمارتوں اور تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ٹیگز: