Get Alerts

ایران کی فوجی طاقت ختم کر دی،اب وہ معاہدے کے لیے "بھیک" مانگ رہا ہے: صدر ٹرمپ کا کابینہ اجلاس میں دعویٰ

 ایران کی فوجی طاقت ختم کر دی،اب وہ معاہدے کے لیے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے اور اب تہران تلملا کر امریکہ سے ڈیل کے لیے منتیں کر رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے اجلاس کو بتایا کہ حالیہ امریکی کارروائیوں میں ایران کا ریڈار سسٹم، بحریہ، فضائیہ اور ڈرون پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کی میزائل اور ڈرونز بنانے والی فیکٹریاں اب ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ  اگر ہم بی ٹو (B−2) بمبار طیاروں سے حملہ نہ کرتے تو ایران محض دو ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار تیار کر چکا ہوتا۔
امریکی صدر نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود نہیں بلکہ ایران اب معاہدے کے لیے "بھیک" مانگ رہا ہے۔ ان کے بقول یہ ڈیل چار ہفتے پہلے ہی ہو جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پاس یہ آخری موقع ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دے، ورنہ اسے مزید بے رحمانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو ممالک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں "کاغذی شیر" قرار دیا اور کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں کسی اتحادی نے امریکہ کی مدد نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی فوجی ناکامی کے بعد بوکھلاہٹ میں خلیجی ممالک پر حملے کر رہا ہے تاکہ خطے کا امن تباہ کر سکے۔
ٹرمپ نے کہا کہ جو کام 47 سال پہلے ہونا چاہیے تھا وہ آج کر دیا گیا ہے۔ اب امریکہ کا ہدف ایک ایسا "درست معاہدہ" کرنا ہے جس سے آبنائے ہرمز کو مستقل کھولا جا سکے اور عالمی تجارت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک ایران جھک نہیں جاتا، امریکی حملوں میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

ٹیگز: