لاہور :انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے پولیس کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے فوٹوگرامیٹک اور پولی گرافک ٹیسٹ دوبارہ کروانے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ اس حوالے سے رپورٹ 9 جون تک عدالت میں جمع کرانے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
پیر کے روز مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کی۔ پولیس کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان نے دو مرتبہ تحریری اور ایک بار زبانی طور پر ان ٹیسٹوں سے انکار کیا، جس کے باعث تفتیش میں پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔
پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جب تک یہ سائنسی ٹیسٹ مکمل نہیں ہوتے، تب تک کیس کی تفتیش پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتی۔ پولیس نے مؤقف اپنایا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے انصاف کے تقاضوں کے مطابق تعاون کریں گے، اور توقع رکھتے ہیں کہ عمران خان بھی تفتیشی عمل میں تعاون کریں گے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس کو دوبارہ فوٹوگرامیٹک اور پولی گرافک ٹیسٹ کرانے کی اجازت دے دی اور رپورٹ پیش کرنے کے لیے 9 جون کی مہلت مقرر کی۔
یاد رہے کہ عمران خان پر جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ سمیت متعدد سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں، جن کی تفتیش انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت جاری ہے۔