اسلام آباد/واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے کی امید پیدا ہو گئی۔ ایران نے جنگ کے خاتمے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ کو پیش کر دی ہیں۔باوثوق ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز میں ایک اہم لچک دکھائی گئی ہے۔ ایران نے تجویز دی ہے کہ فوری طور پر جنگ کا خاتمہ کیا جائے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے۔
پیچیدہ جوہری مذاکرات کو فوری طور پر چھیڑنے کے بجائے مستقبل کے کسی موزوں وقت تک مؤخر کر دیا جائے تاکہ پہلے خطے میں امن قائم ہو سکے۔امریکی صدر نے ایرانی تجاویز موصول ہونے کے بعد آج ہی اپنی قومی سلامتی اور خارجہ امور کی ٹیموں کا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ امریکی صدر ان تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے تاکہ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والے اس عمل کو حتمی شکل دی جا سکے۔
اس اہم سفارتی پیش رفت کے دوران امریکی صدر نے ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اپنے حالیہ خطاب میں ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرا کر سب کو حیران کر دیا ہے کہ پاکستان نے فضائی معرکے میں بھارت کے 11 طیارے مار گرائے تھے۔ صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر ایک مضبوط ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔