لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں میں اچانک پانی چھوڑنے کے باعث سیلاب کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے، تاہم پنجاب حکومت نے اس کے تدارک کے لیے پہلے ہی ضروری حفاظتی اقدامات کر لیے ہیں۔
پریس کانفرنس میں عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ پنجاب میں حالیہ ریکارڈ بارشوں کے باعث 30 سال پرانے بارشوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ خاص طور پر سیالکوٹ میں 405 ملی میٹر بارش ہوئی جس کی وجہ سے شہر زیرِ آب آ گیا تھا، مگر چند گھنٹوں میں پانی نکال لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن سمیت کئی اضلاع متاثر ہوئے ہیں، دریائے ستلج میں سیلاب کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، اور دریائے راوی میں 38 سال بعد سیلاب آیا ہے۔ مجموعی طور پر 45 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے اور 14 ہزار سے زائد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ تمام متعلقہ ادارے امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بھارت کے پانی چھوڑنے کے فوری بعد فلڈ الرٹ جاری کیا گیا اور فوج کو امداد کے لیے طلب کیا گیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور تمام افسران کو میدان میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدرتی آفات ہیں اور دعا ہے اللہ تعالیٰ سب کا بھلا کرے۔
عظمیٰ بخاری نے ان لوگوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو وزیراعلیٰ مریم نواز کے جاپان دورے پر تنقید کر رہے ہیں اور کہا کہ ایسے لوگ کارکردگی کا مقابلہ کرنے کے بجائے صرف تنقید کرتے ہیں۔
اس موقع پر صوبائی وزیر قانون صہیب احمد برتھ نے کہا کہ مریم نواز کا جاپان کا دورہ بہت کامیاب رہا اور 30 سال بعد کسی پاکستانی رہنما کا یہ دورہ تھا جس میں سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور ایمرجنسی سہولیات پر بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق اس دورے سے پنجاب میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔