کٹھمنڈو: نیپال اور تبت کی سرحدی علاقوں میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، حادثات میں کم از کم 162 افراد ہلاک جبکہ 403 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپالی پولیس کے مطابق چتوان کے نشیبی علاقوں سے 64 افراد کی لاشیں جبکہ نوال پراسی ایسٹ سے 26 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ لاپتہ افراد میں 28 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق لاپتہ افراد میں 341 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد بھارتی شہریوں کی ہے۔ امدادی اور تلاش کا کام جاری ہے اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
نیپال کے وزیراعظم بیلندر شاہ نے کہا ہے کہ پورا ملک سانحے پر صدمے میں ہے۔ متاثرہ علاقوں میں تقریباً 8 ٹن امدادی سامان پہنچایا جا چکا ہے، جبکہ امریکا، چین، یورپی یونین اور بھارت نے بھی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ابتدائی طور پر سیلاب کی وجہ زلزلہ قرار دی گئی تھی، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق علاقے میں کوئی زلزلہ نہیں آیا۔ ماہرین کے مطابق گلیشیئر کے منہدم ہونے اور مٹی و پتھروں کے بڑے پیمانے پر بہاؤ نے زلزلے جیسی صورتحال پیدا کی۔