نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ماہانہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری، آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے اقدامات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کی صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور زمینی حقائق تبدیل کرنے کی کوششیں مستقبل کی فلسطینی ریاست کے قیام اور خطے میں پائیدار امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
انہوں نےای ون آبادکاری منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے مغربی کنارے کے علاقائی تسلسل کو شدید خطرہ لاحق ہے اور ہزاروں فلسطینی جبری بے دخلی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے اسرائیل کی تمام غیر قانونی آبادکاری سرگرمیوں کے فوری خاتمے پر زور دیا۔
پاکستانی مندوب نے آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کو بھی ناقابلِ قبول قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق 2026 کے اوائل میں ہر ماہ تقریباً 190 آبادکار حملے رپورٹ ہوئے، جن کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے تقریباً 6 ارب ڈالر کے کلیئرنس ریونیو کی مسلسل روک تھام پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم بلا تاخیر جاری کی جانی چاہیے تاکہ فلسطینی اتھارٹی بنیادی خدمات کی فراہمی جاری رکھ سکے۔
غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود فلسطینی عوام ہلاکتوں، تباہی اور شدید انسانی مشکلات سے دوچار ہیں۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے 1,200 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی غزہ امن منصوبے کا بنیادی قدم ہے اور اسے مکمل طور پر نافذ، مؤثر طور پر مانیٹر اور اس کی خلاف ورزیوں کی تصدیق کی جانی چاہیے۔پاکستان نے غزہ امن منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور نیک نیتی سے عملدرآمد پر بھی زور دیا۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سفارتی عمل کو پٹڑی سے اترنے سے بچانے کے لیے تمام فریقوں کو تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں یو ان آر ڈبلیو اے کی تنصیبات میں اسرائیلی حکام کی مبینہ غیر مجاز مداخلت پر بھی تشویش ظاہر کی اور اقوام متحدہ کی تنصیبات اور اہلکاروں کے تحفظ اور مراعات و استثنیٰ کے احترام کا مطالبہ کیا۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں بین الاقوامی قانون اور انسانی قانون کی خلاف ورزیوں، بشمول جنگی جرائم، کے لیے جواب دہی یقینی بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی غیر متزلزل ہے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کی واحد قابلِ عمل راہ ایک منصفانہ اور جامع امن ہے، جس کے تحت 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔