تہران : ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے اگلے ہفتے آسٹریا میں مزید بات چیت پر اتفاق کیا ہے۔ یہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیوں کے بعد شروع ہوئے ہیں، جنہوں نے تہران کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے 15 دن کی مہلت دی تھی۔
ایران کا موقف ہے کہ بات چیت صرف اس کے جوہری پروگرام تک محدود ہونی چاہیے، جبکہ امریکا ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں جنگجو گروپوں کی حمایت کو محدود کرنے پر زور دے رہا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ مذاکرات میں بہت اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریقین نے معاہدے کے نکات پر سنجیدگی سے بات کی ہے۔ عراقچی نے مزید کہا کہ اگلا دور شاید ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ہوگا، جب کہ اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی میں تکنیکی مذاکرات پیر کے روز ویانا میں شروع ہوں گے۔
عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ویانا میں تکنیکی بات چیت اگلے ہفتے شروع ہوگی، اور ان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔
یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سب سے بڑی فوجی تعیناتی کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود سخت سکیورٹی کے حصار میں عمانی سفیر کی رہائش گاہ پر ملاقات کر رہے ہیں، اور اس کے بعد دونوں نے اپنی حکومتوں سے مشاورت کے لیے وقفہ لیا ہے۔
عباس عراقچی نے اس نئے دور کو اب تک کے سب سے شدید اور سنجیدہ مذاکرات قرار دیا ہے اور کہا کہ معاہدے کے لیے مزید تفصیل سے بات چیت کی جائے گی، جس میں پابندیوں کے خاتمے اور جوہری اقدامات شامل ہیں۔