Get Alerts

ایم کیو ایم رہنماؤں کی سکیورٹی واپس، سندھ حکومت اور ایم کیو ایم میں ٹھن گئی

ایم کیو ایم رہنماؤں کی سکیورٹی واپس، سندھ حکومت اور ایم کیو ایم میں ٹھن گئی

کراچی: سندھ حکومت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ سانحہ گل پلازہ اور پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر حالیہ تنقید کے ردعمل میں سندھ حکومت نے ایم کیو ایم کے صفِ اول کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لے لی ہے، جس کے بعد شہر میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔
سندھ حکومت کے اچانک فیصلے کے بعد جن اہم شخصیات سے سکیورٹی پروٹوکول واپس لیا گیا ہے ان میں      ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی (وفاقی وزیر و کنوینر ایم کیو ایم)،    مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار،    انیس قائم خانی،    علی خورشیدی (اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی) شا مل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے حالیہ دنوں میں سانحہ گل پلازہ کا تذکرہ اور پیپلز پارٹی پر سخت سیاسی حملوں نے صوبائی حکومت کو سیخ پا کر دیا تھا۔ سیاسی مبصرین اسے خالصتاً "سیاسی انتقام" قرار دے رہے ہیں جبکہ ایم کیو ایم نے اسے اپنی قیادت کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

سکیورٹی واپس لیے جانے پر ایم کیو ایم پاکستان نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے پر اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے آج شام 4 بجے ایک اہم پریس کانفرنس طلب کر لی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پریس کانفرنس میں قیادت اگلے لائحہ عمل اور وفاقی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے اہم اعلان کرے گی۔

ٹیگز: