علی پور/سیت پور :دریائے ستلج اور دریائے چناب میں حالیہ سیلابی صورتحال کے بعد پانی کی سطح میں کمی تو آ گئی، لیکن متاثرہ علاقوں میں تباہی کے اثرات تاحال باقی ہیں۔ متاثرین کی مشکلات کم نہ ہو سکیں، اور زندگی گزارنا ان کے لیے ایک کٹھن چیلنج بن چکی ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگ اپنے گھروں کو لوٹنا تو شروع ہو گئے ہیں، لیکن ان کے پاس نہ چھت ہے، نہ روزگار، اور نہ ہی بنیادی سہولیات۔ متاثرہ خاندانوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ گھروں کی فوری بحالی اور مالی معاونت کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب، دریائے چناب کے سیلابی ریلوں نے وسیع پیمانے پر زمینی کٹاؤ پیدا کیا، جس کے نتیجے میں اربوں روپے مالیت کی زرعی زمینیں اور تیار فصلیں دریا برد ہو گئیں۔ کئی علاقوں میں سیکڑوں ایکڑ اراضی ریت تلے دب گئی ہے، جس سے مقامی کسان اور مزدور مکمل طور پر بے روزگار ہو چکے ہیں۔
علی پور کے نواحی علاقے سیت پور میں اگرچہ پانی میں کمی آئی ہے، مگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی، صاف پانی، خوراک، اور طبی امداد کی قلت نے مقامی آبادی کو بدترین حالات سے دوچار کر دیا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اب تک حکومتی سطح پر بحالی کے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، اور اگر بروقت مدد نہ ملی تو آئندہ چند ماہ قحط اور بے گھری جیسے بحرانوں کو جنم دے سکتے ہیں۔