اسلام آباد: حکومت نے شوگر ملز سے چینی کی خریداری کے لیے سخت شرائط عائد کر دی ہیں جن کے تحت سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، لوکل گورنمنٹ اور محکمہ خوراک کے رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کے بغیر شوگر ملز سے چینی کی خریداری ممکن نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کے تحت شوگر ڈیلرز کو آن لائن ادائیگی کرنا ہوگی اور شوگر ملز نے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا سرٹیفیکیٹ بھی شرط کے طور پر عائد کر دیا ہے۔ اس سے مارکیٹ میں چینی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث قیمت 200 روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہے۔
اسی اثنا میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر سیکٹر کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں چینی کی ترسیل میں تاخیر اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر سخت نوٹس لیا گیا۔ وزیر نے کہا کہ شوگر ملز کے اسٹاکس کی مکمل نگرانی کی جائے گی اور چینی کی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے مل مالکان کے خدشات پیش کیے اور شکایتی کمیٹی اور واٹس ایپ گروپ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چینی کی قیمت اور فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور روزانہ کی بنیاد پر شوگر سیکٹر کے مسائل حل کیے جائیں گے۔