Get Alerts

مصنوعی ذہانت کی آمد، آئی بی ایم نے 8 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا

مصنوعی ذہانت کی آمد، آئی بی ایم نے 8 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا

نیویارک: معروف ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی ایم (IBM) نے مصنوعی ذہانت (AI) کے باعث 8 ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ کمپنی کی جانب سے داخلی نظام میں AI اور آٹومیشن کو وسعت دینے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق زیادہ تر برطرف ہونے والے ملازمین کا تعلق ہیومن ریسورسز (HR) ڈیپارٹمنٹ سے تھا۔ آئی بی ایم نے رواں ماہ کے آغاز میں کم از کم 200 ایچ آر عہدوں کو AI ایجنٹس سے تبدیل کر دیا ہے، جو اب معلومات کی ترتیب، ملازمین کی رہنمائی اور دیگر انتظامی کام خودکار طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ HR کے کئی روزمرہ کے کاموں کو AI ٹولز کے ذریعے خودکار بنایا جا رہا ہے، تاکہ کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور بچنے والے وسائل کو سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مارکیٹنگ اور سیلز جیسے ترقیاتی شعبوں میں استعمال کیا جا سکے۔

آئی بی ایم کے سی ای او اروند کرشنا کا کہنا ہے کہ کمپنی نے AI اور آٹومیشن کے ذریعے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق، برطرفیوں کے باوجود کمپنی کے کل ملازمین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ آئی بی ایم ایک متوازن حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں گوگل سمیت دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی AI کے باعث ملازمین میں کمی کر چکی ہیں۔ گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے گزشتہ ماہ اپنے اینڈرائیڈ، پکسل فونز اور کروم براؤزر ڈپارٹمنٹس سے سینکڑوں ملازمین کو فارغ کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق، AI کا بڑھتا ہوا استعمال دنیا بھر میں ملازمتوں کی نوعیت کو تیزی سے بدل رہا ہے اور اب وہ کام جو بار بار دہرائے جاتے ہیں، خودکار نظام سنبھال رہے ہیں، جس کے باعث انسانی عملے کی ضرورت میں کمی آ رہی ہے۔

ٹیگز: