Get Alerts

پاکستان ترکیہ اور آذربائیجان جیسے سچے دوستوں کا شکر گزار ہے: وزیراعظم شہباز شریف

پاکستان ترکیہ اور آذربائیجان جیسے سچے دوستوں کا شکر گزار ہے: وزیراعظم شہباز شریف

لاچین : وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خوش نصیب ہے جس کے پاس ترکیہ اور آذربائیجان جیسے مخلص اور قابلِ اعتماد دوست موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بات آذربائیجان کے یومِ آزادی کے موقع پر ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں آذربائیجان کے صدر الہام علییوف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی شرکت و خطاب کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آرمینیا کے خلاف جنگ میں پاکستان اور ترکیہ نے آذربائیجان کی بھرپور سیاسی و سفارتی حمایت کی، اور اس دوران تینوں ممالک نے مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ"ہم ایک جان اور تین قالب ہیں۔"

شہباز شریف نے اپنی تقریر میں حالیہ بھارتی حملے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ"22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس پر بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے فوری طور پر پاکستان پر الزام لگایا۔"
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس کی شفاف تحقیقات کے لیے بین الاقوامی کمیشن کی تجویز دی، مگر بھارت نے اس کا جواب براہموس میزائل حملوں اور شہریوں کو نشانہ بنا کر دیا۔

وزیراعظم کے مطابق، 9 اور 10 مئی کی رات کو پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے 6 بھارتی جنگی جہاز مار گرائے، جن میں چار جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے۔

"ہم نے دشمن کو بتا دیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن جارحیت کا سخت جواب دینا بھی جانتا ہے۔"انہوں نے کہا کہ بھارت نے سیزفائر کی درخواست کی، جسے پاکستان نے فتح کے بعد قبول کیا۔


شہباز شریف نے کہا کہ جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو ترکیہ اور آذربائیجان نے ہر سطح پر پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

"یہ تاریخی اتحاد ہماری دوستی، بھائی چارے اور باہمی اعتماد کی روشن مثال ہے، جسے ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔"
انہوں نے آذربائیجان کو کاراباخ کی آزادی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ

"صدر الہام علییوف کی قیادت اور آذری فوج کی قربانیوں نے 30 سال بعد کامیابی حاصل کی، ہم شہداء کو خراجِ عقیدت اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔"

وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ"پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت غیر متزلزل انداز میں کرتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام آزادی کی فضا میں سانس لیں گے۔"


انہوں نے غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ"اب تک 52 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ انسانیت سوز مظالم بند ہونے چاہئیں۔"
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ترکیہ، آذربائیجان اور پاکستان کو مل کر غزہ میں فوری جنگ بندی اور دو ریاستی حل کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرنی چاہیے۔


وزیراعظم نے سہ فریقی اجلاس کو "تعمیری اور نتیجہ خیز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ"تینوں ممالک کے پرچم ایک ساتھ لہرا رہے ہیں، جو ہمارے اتحاد، ترقی اور مسلم امہ کے روشن مستقبل کی علامت ہیں۔"

ٹیگز: