نئی دہلی:حالیہ اطلاعات کے مطابق بارہمولا کے حساس علاقے میں بھارتی فوج کی دو یونٹوں کے درمیان ہونے والی مبینہ جھڑپ نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ پانچ سکھ فوجیوں کی ہلاکت نہ صرف ایک المناک واقعہ ہے بلکہ یہ بھارتی فوج کے اندرونی خلفشار اور نسلی و لسانی تفریق کا عکاس بھی ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 25 اپریل کی شب اس وقت پیش آیا جب بی ایس ایف نے 13 سکھ لائٹ انفنٹری پر فائرنگ کی۔ واقعے کے بعد سکھ اہلکاروں میں غم و غصے کی کیفیت ہے۔
ماضی میں بھی بھارتی فوج میں خودکشیوں، افسران سے بدسلوکی، اور آپس میں جھڑپوں جیسے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ یہ واقعہ ان خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ فوجی اہلکار شدید ذہنی دباؤ اور عدم اطمینان کا شکار ہیں۔
اگر بھارتی حکام نے اس پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی تو یہ صورتحال مستقبل میں مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔