Get Alerts

    پشاور میں خواتین کے لیے ڈیجیٹل انقلاب، یورپی یونین اور کے پی حکومت کے مشترکہ مرکز کا افتتاح

     پشاور میں خواتین کے لیے ڈیجیٹل انقلاب، یورپی یونین اور کے پی حکومت کے مشترکہ مرکز کا افتتاح
     پشاور میں خواتین کے لیے ڈیجیٹل انقلاب، یورپی یونین اور کے پی حکومت کے مشترکہ مرکز کا افتتاح
     پشاور میں خواتین کے لیے ڈیجیٹل انقلاب، یورپی یونین اور کے پی حکومت کے مشترکہ مرکز کا افتتاح
     پشاور میں خواتین کے لیے ڈیجیٹل انقلاب، یورپی یونین اور کے پی حکومت کے مشترکہ مرکز کا افتتاح

پشاور : خیبر پختونخوا کی خواتین کے لیے روزگار کے جدید مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے، حکومتِ خیبر پختونخوا اور یورپی یونین   نے پشاور کے انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز میں "ڈیجیٹل اور ہائی ٹیک سکلز" کے لیے سینٹر آف ایکسی لینس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔
یہ مرکز یورپی یونین کی "گلوبل گیٹ وے" سرمایہ کاری حکمت عملی اور جاب فوکسڈ اسکلز ٹریننگ (TVET سیکٹر) سپورٹ پروگرام کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے۔
واضح رہے کہ یہ منصوبہ "ٹیم یورپ" کے وژن کے تحت یورپی یونین، جرمنی، فرانس اور اٹلی کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد مستقبل کے لیے "گرین جابز" کی تخلیق اور پاکستان کے نوجوانوں کو عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ کے مقابلے کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس پروگرام کی مالی معاونت یورپی یونین اور جرمنی کر رہے ہیں جبکہ نفاذ میں برٹش کونسل اور GIZ شریک ہیں۔
یہ یورپی یونین کی ایک عالمی حکمت عملی ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں ڈیجیٹل، توانائی، صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کر کے ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ اس اسٹریٹجی کے تحت 2021 سے 2027 کے درمیان 400 ارب یورو تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
اگلے دو سالوں میں خیبر پختونخوا اور ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) سے تعلق رکھنے والی تقریباً 1,000 خواتین کو جدید ڈیجیٹل اور ہائی ٹیک مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ برٹش کونسل کے زیر انتظام یہ مرکز "حب اینڈ سپوک" (Hub & Spoke) ماڈل کے تحت کام کرے گا، جس کے ذریعے اس کا دائرہ کار گلگت بلتستان اور بلوچستان تک بھی پھیلایا جائے گا۔
 سینٹر میں خواتین کے لیے ہراساں کیے جانے کے خلاف پالیسیاں، ڈے کیئر سینٹرز اور ٹرانسپورٹ جیسی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ بلا روک ٹوک سیکھ سکیں۔یورپی یونین کے سفیر، مسٹر ریمنڈاس کاروبلس کا اس حوالے سے  کہنا تھا کہ    یہ مرکز پاکستان کی ڈیجیٹل منتقلی میں تعاون کے لیے ہمارے عزم کا عکاس ہے۔ مارکیٹ کی طلب کے مطابق تربیت فراہم کر کے ہمارا مقصد خواتین کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے راستے بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، محمد سہیل آفریدی نے اس بارے میں کہاکہ    حکومتِ خیبر پختونخوا اقتصادی ترقی کے لیے مہارتوں کی فراہمی کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ مرکز نوجوانوں کو ابھرتے ہوئے شعبوں میں اپنی جگہ بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
برٹش کونسل کے کنٹری ڈائریکٹر، جیمز ہیمپسن نے کہا کہ   ہمیں فخر ہے کہ ہم خیبر پختونخوا کی خواتین کو ہائی ٹیک مہارتوں سے جوڑ رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی اپنی زندگی بدلے گی بلکہ پاکستان کی معیشت بھی کامیاب ہوگی۔

ٹیگز: