کراچی : سندھ حکومت نے کراچی کے تجارتی مرکز 'گل پلازہ' میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں ہونے والے بھاری جانی نقصان کے بعد واقعے کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے انتظامی غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور ہائیڈرنٹ انچارج سمیت متعدد افسران کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ جس وقت عمارت میں آگ لگی، وہاں تقریباً 2500 افراد موجود تھے۔ اگرچہ ریسکیو اداروں نے فوری آپریشن کر کے بڑی تعداد میں لوگوں کو نکال لیا، تاہم دم گھٹنے اور جھلسنے کے باعث اب تک 80 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1200 دکانوں پر مشتمل اس بڑی عمارت میں آگ بجھانے کا اپنا کوئی حفاظتی نظام (Fire Fighting System) موجود نہیں تھا۔
صوبائی وزیر نے اعتراف کیا کہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران پانی کی شدید کمی کا سامنا رہا اور فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں مجرمانہ تاخیر ہوئی۔ اس غفلت پر سخت ایکشن لیتے ہوئے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں۔ ڈائریکٹر سول ڈیفنس (ضلع جنوبی) کو فرائض میں کوتاہی پر معطل کر دیا گیا۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ہائیڈرنٹ انچارج کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ چیف انجینئر بلک کے خلاف بھی پانی کی فراہمی میں تاخیر پر کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔
شرجیل میمن نے انکشاف کیا کہ محکمہ سول ڈیفنس نے 2023 سے اب تک گل پلازہ کے کئی دورے کیے اور دو بار نوٹسز بھی جاری کیے تھے، لیکن عمارت کی انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات کو بہتر نہیں بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ واقعے سے نمٹنے کے لیے کے ایم سی (KMC) کی صلاحیتیں بھی ناکافی ثابت ہوئیں، جس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ جوڈیشل انکوائری کے ذریعے اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ اتنی بڑی عمارت میں فائر سیفٹی کے بغیر کاروبار کیسے جاری رہا۔ کسی بھی سینئر افسر یا اتھارٹی کی غفلت سامنے آنے پر اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔