لاہور : ملک بھر میں مون سون کی بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ دریائے راوی، جہلم، ستلج اور چناب میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے جس کے باعث سیلاب کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ دریائے سندھ کے تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جبکہ گڈو بیراج پر پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دریائے سندھ کا بڑا سیلابی ریلہ ڈی جی خان کی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔
جھنگ میں دریائے چناب کی طغیانی کے باعث 10 سے زائد دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں، جس سے فصلوں اور آبادیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی رابطہ سڑکیں بھی ڈوب گئی ہیں۔ حافظ آباد میں دریائے چناب کے اطراف کٹاؤ کی صورتحال تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ تونسہ شریف میں بھی دریائے سندھ کی سیلابی صورتحال برقرار ہے جس سے زرعی اراضی دریا برد ہو گئی ہے۔
سیہون شریف کے کچے علاقے میں گزشتہ 10 روز سے سیلاب کا راج ہے، تین یونین کونسلز کے متعدد دیہات کا زمینی رابطہ شہروں سے منقطع ہو چکا ہے۔ بھکر میں بھی دریائے سندھ کی طغیانی سے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کے کئی علاقے بھی زیرِ آب آ چکے ہیں۔
ادھر سانحہ بابو سر میں لاپتہ افراد میں ایک نجی ٹی وی کی اینکر بھی شامل ہے، سرچ آپریشن کے دوران اینکر کا کارڈ اور پرس ملا ہے، جس سے گمشدگی کا معاملہ مزید سنجیدہ ہو گیا ہے۔