تہران/تل ابیب : مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے اس وقت انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیا جب ایران نے اسرائیل اور خطے میں قائم امریکی اڈوں کے خلاف اپنے بڑے عسکری مشن "آپریشن وعدہ صادق-4" کی نئی اور طاقتور لہر کا آغاز کر دیا۔ ایرانی فورسز نے تل ابیب کو نشانہ بناتے ہوئے کلسٹر بموں کی برسات کر دی، جس سے شہر کے کئی حصے لرز اٹھے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے صنعتی مراکز کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران نے حیفہ میں موجود اسرائیلی ایرواسپیس انڈسٹری، اہم ریڈار سسٹمز اور بن گوریون ایئر بیس پر ایندھن کے ذخائر کو خودکش ڈرونز کے ذریعے تباہ کر دیا۔ ریڈار سسٹمز کی تباہی کے باعث اسرائیل کا جدید ترین دفاعی نظام (آئرن ڈوم) شدید دباؤ کا شکار ہو کر کمزور پڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے ایرانی میزائلوں کو روکنا مشکل ہو رہا ہے۔
اسرائیلی علاقے بیت شمیش سے بھی شدید تباہی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جہاں ایرانی میزائلوں نے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ایران نے صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے، جہاں میزائل داغے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں دشمن کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر بے بس کرنے تک جاری رہیں گی۔