اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن اور ایران و امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے مشن پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جس کے بعد وہ براہِ راست اہم سفارتی ملاقاتوں کے لیے روانہ ہو گئے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے پوری دنیا کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان اس نازک صورتحال میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ پہلے ہی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ آج اسلام آباد میں ان چاروں ممالک (پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر) کے وزرائے خارجہ کا انتہائی اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔
چاروں دوست ممالک کے وزرائے خارجہ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں خطے کو بڑی جنگ سے بچانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، پاکستان اور اس کے اتحادی ممالک امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لیے سرگرم ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ کی آمد کو اس سلسلے میں ایک فیصلہ کن پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کو یقینی بنانا ہے۔