Get Alerts

عوام کی خدمت کیلئے لوکل گورنمنٹ اصل فورم ہے،چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

عوام کی خدمت کیلئے لوکل گورنمنٹ اصل فورم ہے،چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

پشاور : ایپ سپ کے زیر اہتمام رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ حیات آباد پشاور میں ’’2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں‘‘ کے موضوع پر آگاہی سیشن کے دوران چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے پاکستان کے ترقیاتی مسائل پر  تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ترقی کے بے شمار مسائل ہیں اور لاہور کے علاوہ پنجاب میں کسی اور شہر میں ترقی نظر نہیں آتی۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں رسول پاک ﷺ کے گورننس ماڈل کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی گورننس ماڈل میں ہر 10 گھروں پر ایک نقیب مقرر کیا جاتا تھا، اور پھر ان 10 گھروں کو ملا کر ہر 100 گھروں پر ایک نقیب مقرر ہوتا تھا۔ یہ ایک نظام تھا جو آج بھی ہم اپنے معاشرتی ڈھانچے میں لاگو کر سکتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان کی ترقی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان کو بنے 80 سال ہو چکے ہیں، اور دنیا میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ دنیا میں ممالک اس لیے بنتے ہیں تاکہ پبلک ویلفیئر ہو سکے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ابھی تک بنیادی ڈھانچے کی بہت کمی ہے ،  موجودہ صوبوں کا بڑا رقبہ اور آبادی انتظامی مسائل کا سبب بن رہی ہے، اور چھوٹے صوبے بنانے سے اخراجات کم ہونے کے بجائے فائدہ ہو گا۔

میاں عامر محمود نے مزید کہا کہ "ورلڈ بینک کے ایک گروپ نے پاکستان پر ایک سٹڈی کی تھی، جس میں بتایا گیا کہ پاکستان کو بہت سی چیزوں میں بہتری لانی ہوگی۔ ہمیں 79 سالوں میں صرف 5 بڑے شہروں کو ترقی دی، لیکن سندھ میں کراچی کے علاوہ کہیں بھی ترقی کی کوئی علامت نظر نہیں آتی۔ کراچی کا حال بھی سب کو معلوم ہے، اور اگر کراچی کے علاوہ سندھ کے کسی اور شہر میں جائیں تو کچی آبادیاں اور مسائل ہی نظر آئیں گے۔"

انہوں نے پنجاب کا بھی ذکر کیا اور کہا، "پنجاب میں لاہور کے علاوہ کسی شہر میں ترقی نظر نہیں آتی۔ فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے، لیکن وہاں نہ کوئی اچھا ہسپتال ہے، نہ یونیورسٹی، اور نہ ہی کوئی معیاری اسکول۔ اس شہر کے لوگ علاج کے لیے لاہور جانے پر مجبور ہیں۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان کے صوبوں کی موجودہ ساخت دنیا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔ ان کے مطابق، پنجاب پاکستان کی آبادی کا 52 فیصد ہے اور بلوچستان کا رقبہ آدھے ملک کے برابر ہے، جو انتظامی لحاظ سے مسائل پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بلوچستان کی آبادی آزادی کے وقت صرف 11 لاکھ تھی، اور آج وہاں کی آبادی ڈیڑھ کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جس سے اس کے انتظامی مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

انہوں نے دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین، بھارت اور امریکا جیسے بڑے ممالک نے اپنے صوبوں یا ریاستوں کی تعداد بڑھا کر اپنے انتظامی امور کو بہتر بنایا ہے۔ بھارت میں نئے صوبے بنانے کے بعد جی ڈی پی اور ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں اضافہ ہوا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک سبق ہے۔

میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پانچ بڑے شہروں کے علاوہ دیگر شہروں میں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے، جس کی وجہ سے شہری علاقوں میں آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مثال کے طور پر کہا کہ فیصل آباد، کوئٹہ اور پشاور میں شہری سہولتوں کی کمی ہے اور لوگ علاج یا تعلیم کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات ہونے کے باوجود حقیقی اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے، جس کے نتیجے میں عوام کی خدمت میں رکاوٹیں آتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان میں 1951 میں پہلی مردم شماری ہوئی تھی، اور آج 25 کروڑ افراد پر مشتمل آبادی ہے، لیکن گورننس کا وہی پرانا ماڈل قائم ہے۔ ہمیں نئے صوبوں کی تجویز پیش کرنی چاہیے تاکہ ہر ڈویژن کو ایک الگ صوبہ بنایا جا سکے۔‘‘

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے نئی قیادت کو ابھارنا ضروری ہے، اور نوجوانوں کو سیاست میں شامل کر کے اصلاحات کی جائیں تاکہ ملک کی معیشت اور سماجی ترقی کو بہتر بنایا جا سکے۔

آخر میں، میاں عامر محمود نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کے ہر صوبے کی جی ڈی پی کا حساب کتاب کرنا ضروری ہے تاکہ اقتصادی پالیسیوں میں بہتری لائی جا سکے اور عوامی خدمات میں مزید اضافہ ہو۔

ٹیگز: