Get Alerts

آزاد کشمیر  وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد فیصلہ کن مرحلے میں داخل، جوڑ توڑ نے صورتحال کو نیا رخ دے دیا 

آزاد کشمیر  وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد فیصلہ کن مرحلے میں داخل، جوڑ توڑ نے صورتحال کو نیا رخ دے دیا 

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، یہ اب بھی واضح نہیں ہو سکا۔ تاہم سیاسی جوڑ توڑ نے صورتحال کو نیا رخ دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری ڈیڈلاک ختم ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے قبل از وقت انتخابات کرانے کی شرط پر تحریکِ عدم اعتماد کی حمایت کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

آئینی ماہرین کے مطابق وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 27 ارکانِ اسمبلی کی سادہ اکثریت درکار ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حمایت کے بعد پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اب اسے 36 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئے قائدِ ایوان کا نام واضح طور پر سامنے لائے تاکہ سیاسی غیر یقینی کا خاتمہ ہو سکے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق آئندہ چند روز میں آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم پیش رفت متوقع ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے یا حکومت اعتماد بحال کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔

ٹیگز: