Get Alerts

افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی

افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک بھر میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں، جس کے باعث دارالحکومت کابل سمیت متعدد صوبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

خبر رساں ویب سائٹس کے مطابق، یہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ 29 ستمبر کی شام سے شروع ہوا اور اب پورے افغانستان میں پھیل چکا ہے۔ کابل اور کئی دیگر علاقوں میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے، جبکہ موبائل ڈیٹا صرف 2G رفتار پر محدود ہے، جو صرف بنیادی رابطے کے لیے کافی ہے۔

متعدد انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ بندش طالبان حکومت کے حکم پر کی گئی ہے۔ میڈیا ادارہ طلوع نیوز نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس اقدام کی وجہ سے ان کی نشریاتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی۔

طالبان حکام کا مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا مقصد "غیراخلاقی اور نقصان دہ مواد" تک عوام کی رسائی روکنا ہے، تاہم شہریوں اور کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے اور آزاد میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔

طالبان کی اس پالیسی سے طلبہ بھی متاثر ہوئے ہیں، جنہوں نے آن لائن کلاسز اور اسکالرشپ پروگرامز تک رسائی ختم ہونے کی شکایت کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا واچ ڈاگز نے اس بندش کو بنیادی شہری آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ٹیگز: