Get Alerts

یومِ فتح پر امن کی امید؛ صدر پیوٹن کی یوکرین کو عارضی جنگ بندی کی پیشکش

یومِ فتح پر امن کی امید؛ صدر پیوٹن کی یوکرین کو عارضی جنگ بندی کی پیشکش

ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کو منائے جانے والے 'یومِ فتح' (Victory Day) کے موقع پر یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کر دی ہے۔ سفارتی حلقوں نے اس پیشکش کو جنگ کے موجودہ حالات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جس سے کشیدگی میں کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ اہم پیشکش روسی صدر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی حالیہ گفتگو کے دوران سامنے آئی۔ روسی صدارتی مشیر نے تصدیق کی ہے کہ صدر پیوٹن نے یومِ فتح کی تقریبات کے احترام میں لڑائی روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ اس تاریخی دن کو پرسکون ماحول میں منایا جا سکے۔
واضح رہے کہ 9 مئی روس میں دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد میں 'یومِ فتح' کے طور پر منایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس تجویز پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے اس دن کو دونوں اقوام کی 'مشترکہ تاریخی کامیابی' قرار دیا ہے۔
 ایک طرف امن کی بات ہو رہی ہے تو دوسری جانب شمالی کوریا میں ان فوجیوں کی یاد میں ایک میوزیم کا افتتاح بھی کیا گیا ہے جو یوکرین کے خلاف جنگ میں شریک رہے ہیں۔روسی پیشکش کے باوجود، یوکرین کی حکومت یا فوج کی جانب سے تاحال اس عارضی جنگ بندی پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین اس پیشکش کو قبول کرنے سے قبل اس کے تزویراتی پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہا ہے تاکہ اسے محض ایک عارضی جنگی چال کے طور پر نہ دیکھا جائے۔

عالمی برادری کی نظریں اب کیف پر لگی ہیں کہ آیا وہ امن کی اس مختصر دستک کا جواب دے گا یا محاذِ جنگ پر گولہ باری کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ٹیگز: