غزہ : غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 70,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، فلسطین کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی حملے میں دو بچے ہلاک ہو گئے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق، 10 اکتوبر 2023 کو جنگ بندی کے بعد ہلاکتوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ فلسطینی صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت تک کل ہلاکتوں کی تعداد 70,100 ہو چکی ہے، جبکہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں 354 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے جنوبی حصے پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
غزہ کے نصر ہسپتال کے اہلکاروں نے بتایا کہ جن دو بچوں کی لاشیں ہسپتال لائی گئیں، وہ دونوں بھائی تھے جن کی عمریں 8 اور 11 سال تھیں۔ یہ دونوں بچے اسرائیلی ڈرون حملے میں اس وقت ہلاک ہوئے جب بینی سہیلہ کے علاقے میں ایک سکول کے قریب حملہ کیا گیا۔
دوسری طرف، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جن دو افراد کو ہلاک کیا گیا، وہ اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور ان کی سرگرمیاں مشتبہ تھیں۔
حماس نے بین الاقوامی ثالثوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ ان حملوں کو روکا جا سکے، اور انہیں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ، امریکہ کی جانب سے غزہ کی تعمیر نو کے لیے پیش کردہ منصوبے کے ابتدائی مراحل میں کئی نکات شامل ہیں، جن میں علاقے کی سکیورٹی کے لیے بین الاقوامی فورس کی تعیناتی، عبوری اتھارٹی کا قیام اور فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ممکنہ اقدامات شامل ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ فلسطینیوں کے مطابق، اسرائیلی فوج نے دو افراد کو قتل کر دیا جنہیں اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ ہتھیار ڈال چکے تھے۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔