Get Alerts

چین اور امریکا کے درمیان ایک سالہ تجارتی معاہدہ طے

چین اور امریکا کے درمیان ایک سالہ تجارتی معاہدہ طے

بوسان : چین کے صدر شی جن پنگ اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تاریخی ملاقات میں ایک سالہ تجارتی معاہدہ طے پا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس معاہدے کی باقاعدہ توسیع کی جائے گی، جس کے تحت چین پر عائد ٹیرف میں کمی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ چین پر عائد ٹیرف 57 فیصد سے کم کر کے 47 فیصد کر دیے جائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کو بہت کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ بات چیت "حیرت انگیز" رہی اور دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نایاب معدنیات کے معاملے پر بھی ایک حل نکال لیا گیا ہے، جس سے چین اور امریکا کے درمیان تجارت میں مزید بہتری آئے گی۔

ملاقات کے دوران، ٹرمپ نے یوکرین کے معاملے پر چین کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، اور کہا کہ دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی سطح پر جاری جنگوں اور بحرانوں کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے واضح کیا کہ ملاقات کے دوران تائیوان کے مسئلے پر بات نہیں کی گئی۔

اس ملاقات میں، چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا کو شراکت داری اور دوستی کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو آگے بڑھانا چاہیے تاکہ عالمی مسائل کو حل کیا جا سکے۔ شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور امریکا دنیا کے بڑے ممالک ہیں اور ان کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی امن اور معیشت کے لیے کام کریں۔

یہ ملاقات جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً ایک گھنٹہ 40 منٹ تک بات چیت جاری رہی، جو طے شدہ وقت سے کہیں زیادہ تھی۔ اس موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ، اور چین میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو سمیت دیگر امریکی حکام بھی موجود تھے۔

چینی وفد میں صدر شی جن پنگ کے علاوہ وزیر خارجہ وانگ یی، نائب وزیر خارجہ ما ژاؤ سو، اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔ 

ٹیگز: