جسٹس مظاہر نقوی کو بینچ میں شامل کرنا کسی کو خاموش پیغام دینا تھا ، آڈیو لیکس پر انہیں فارغ نہیں کیا جا سکتا: چیف جسٹس 

جسٹس مظاہر نقوی کو بینچ میں شامل کرنا کسی کو خاموش پیغام دینا تھا ، آڈیو لیکس پر انہیں فارغ نہیں کیا جا سکتا: چیف جسٹس 
سورس: File

اسلام آباد : چیف جسٹس نے انتخابات کے التوا کے معاملے میں حکومت کی جانب سے فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کر دی ہے اور اس معاملے کی سماعت بھی پیر کی صبح تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ کو طلب کیا ہے۔

دو بار بینچ ٹوٹنے کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی شامل تھی۔ 

اٹارنی جنرل عثمان منصور نے کہا کہ فل کورٹ کی درخواست کی تھی ۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فل کورٹ والا معاملہ میرے ذہن میں تھا، آپ اس نکتے پر آپ دلائل ضرور دیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کو بینچ بناتے وقت بہت کچھ ذہن میں رکھنا ہوتا ہے۔ ایک بات یہ ذہن میں ہوتی ہے کہ معمول کے مقدمات متاثر نہ ہوں۔ موجودہ دور میں روز نمٹائے گیے مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ بعض اوقات تمام ججز دستیاب نہیں ہوتے۔

نو رکنی بینچ تشکیل دیتے وقت تمام ججز کے بارے میں سوچا۔ جسٹس اطہر من اللہ کو آئین سے ہم آہنگ پایا ۔ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر آئین کے ماہر ہیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن بھی آئین کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ پوچھ سکتے ہیں جسٹس مظاہر نقوی کیوں شامل کیے گئے۔ انھیں شامل کرنا خاموش پیغام دینا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ تمام ججوں کو سنی سنائی باتوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، سپریم کورٹ متحد تھی، کچھ معاملات میں اب بھی ہے۔ عدلیہ کس طرح متاثر ہو رہی ہے، کوئی نہیں دیکھتا، اہم عہدوں پر تعینات لوگ کس طرح عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انھیں کہا جا رہا ہے کہ ایک اور جج کو سزا دوں، جا کر پہلے ان شواہد کا جائزہ لیں۔ آڈیو لیک کی بنیاد پر کیسے نشانہ بنایا جائے۔ قانون پر بات کریں تو میں بطور جج سنوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے ججز کے بارے میں بات کریں گے تو میرا سامنا کرنا پڑے گا۔ میرا بھی دل ہے میرے بھی جذبات ہیں۔ جو کچھ کیا پوری ایمانداری سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر کیا۔ جو کچھ آج تک کیا آئیں اور قانون کے مطابق کیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ادھر ادھر کی باتوں سے میں جذباتی ہوگیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اپنے دلائل جلدی ختم کردوں گا جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف پورا نہیں سنا گیا۔

اس پر چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ اٹارنی جنرل کو بات مکمل کرنےدیں۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’میں صرف تین منٹ بات کرتا ہوں۔ روز مجھے گھنٹوں بیٹھنا پڑتا ہے۔ آپ جذباتی ہو سکتے ہیں تو ہم بھی ہو سکتے ہیں۔‘

چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ آپ کو سنیں گے آپ نے تین منٹ کا کہا ہے۔ عرفان قادر نے کہا کہ ’تین منٹ نہیں بلکہ مختصرا بات مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

مصنف کے بارے میں