یروشلم/پیرس: اسرائیل نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر "یہودی ریاست کے خلاف صلیبی جنگ جاری رکھنے" کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ ردعمل فرانسیسی صدر کی جانب سے فلسطینی ریاست کی ممکنہ تسلیم اور اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ:
"صدر میکرون کو حقائق سے کوئی دلچسپی نہیں، ان کی یہودی ریاست کے خلاف صلیبی مہم جاری ہے۔"
وزارت نے مزید دعویٰ کیا کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی پر کوئی پابندی نہیں اور اسرائیل امداد پہنچانے کے لیے مکمل تعاون کر رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ میکرون، حماس پر دباؤ ڈالنے کے بجائے، اسے فلسطینی ریاست کا انعام دینا چاہتے ہیں، اور اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا:
"ہم فلسطین کے مغربی کنارے میں یہودی ریاست قائم کریں گے۔ میکرون اور ان کے اتحادی چاہے فلسطینی ریاست کو کاغذ پر تسلیم کریں، ہم زمین پر اسرائیلی ریاست بنائیں گے۔"
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب فرانسیسی صدر میکرون نے ایک روز قبل بیان دیا تھا کہ فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے حمایت کر سکتا ہے، اور اگر غزہ میں انسانی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو فرانس اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کرے گا۔
صدر میکرون نے کہا تھا:"اگر ہم غزہ کو مکمل طور پر اسرائیلی رحم و کرم پر چھوڑ دیں، تو ہم اپنی ساکھ کھو دیں گے۔"
انہوں نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی شدید مذمت کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کو "شرائط کے ساتھ تسلیم کرنا اخلاقی ذمہ داری" قرار دیا۔