لاہور:حکومتِ پنجاب نے مالی سال 2026-27ء کے سالانہ بجٹ کے خدوخال کو حتمی شکل دیدی ہے، جسے جون کے دوسرے ہفتے میں صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق، نئے مالی سال کے بجٹ کا مجموعی تخمینہ تقریباً 6 ہزار ارب روپے لگایا گیا ہے، جسے مکمل طور پر عوامی اور ترقیاتی بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق، صوبائی حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لیے ریکارڈ ایک کھرب 600 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ نئے بجٹ میں مریم نواز حکومت کی ترجیحات کے مطابق تعلیم، صحت، سڑکوں کے نیٹ ورک، زراعت، صفائی ستھرائی کی مہم اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے بھاری فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ شدید مہنگائی کے پیشِ نظر سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت ان کی تنخواہوں اور پنشن میں وفاق کے برابر اضافہ متوقع ہے۔ عوام کے لیے سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ اس سال بجٹ میں صوبائی سطح پر کسی بھی قسم کا کوئی نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے