لاہور : حکومتِ پنجاب نے صوبے کی قدیم ثقافت کو بحال کرتے ہوئے 25 سال کے طویل عرصے کے بعد بسنت کا تہوار منانے کے لیے سخت قواعد و ضوابط (SOPs) طے کر لیے ہیں۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ان اقدامات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے اسے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے وژن کا عکاس قرار دیا ہے۔
تاریخ میں پہلی بار پتنگ بازی کو محفوظ بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا ہے۔ عظمیٰ بخاری کے مطابق ہر پتنگ، گڈے اور ڈور کے پنے پر خصوصی کیو آر کوڈ (QR Code) چسپاں کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے انتظامیہ کے پاس ڈور اور پتنگیں فروخت کرنے والے دکانداروں اور خریداروں کا مکمل ڈیٹا موجود ہوگا، جس کا مقصد غیر قانونی اور خطرناک ڈور کی فروخت کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔
انسانی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے اب تک 10 لاکھ موٹر سائیکلوں کو مفت سیفٹی راڈز لگا دیے ہیں تاکہ شہریوں کو ڈور سے محفوظ رکھا جا سکے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں فیلڈ میں متحرک ہیں اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے عوامی آگاہی مہم بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔
بسنت کے تین روزہ فیسٹیول کے دوران شہریوں کی سہولت کے لیے پنجاب حکومت نے الیکٹرک بسوں، رکشوں اور ٹیکسیوں کو مفت چلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سفری سہولیات عوام کو جشنِ بسنت کے دوران بلا معاوضہ میسر ہوں گی۔
عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ 25 سال بعد بسنت جیسے خوبصورت اور روایتی تہوار کی بحالی کا سو فیصد کریڈٹ مریم نواز کو جاتا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اس فیسٹیول کو ذمہ داری کے ساتھ منائیں اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔