Get Alerts

صدر مادورو امریکی حراست میں، سپین کی ثالثی کی پیشکش؛ عالمی سطح پر شدید تشویش

صدر مادورو امریکی حراست میں، سپین کی ثالثی کی پیشکش؛ عالمی سطح پر شدید تشویش

کراکس:وینزویلا پر امریکی فوجی حملوں اور صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری کے بعد عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپین نے امریکا اور وینزویلا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج نے کارروائی کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

یورپی یونین، روس، چین، ایران اور دیگر ممالک نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بتایا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وینزویلا میں یورپی یونین کے سفیر سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یورپی یونین صدر مادورو کو قانونی صدر تسلیم نہیں کرتی، تاہم اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کا احترام ناگزیر ہے۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ ان کی حکومت وینزویلا کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اسپین کے سفارتخانے اور قونصل خانے مکمل طور پر فعال ہیں۔ اس سے قبل سپین کی وزارت خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی باضابطہ پیشکش کرتے ہوئے پُرامن حل کے لیے مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔

روس نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ اقدام عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔چین نے وینزویلا کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے امریکا سے پُرامن راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ایران نے بھی امریکی حملے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

بیلاروس، جرمنی، فرانس، بیلجیئم، نیدرلینڈز اور پولینڈ سمیت متعدد ممالک نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اپنے سفارتی مشنز کو متحرک کر دیا ہے اور مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل پر زور دیا ہے۔

ٹیگز: