واشنگٹن / نئی دہلی :معروف امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین میں بھارتی تجزیہ کار سوشانت سنگھ نے اپنے تازہ ترین مضمون میں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی اور عالمی سطح پر پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف کر لیا ہے۔ بھارتی صحافی کے مطابق، پاکستان نے اپنی عملی سفارتکاری سے بھارت کے "سفارتی تنہائی" کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا ہے۔
آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔ مودی حکومت کے بجائے اب عالمی طاقتیں پاکستان کی قیادت اور خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سفارتی کردار کو مرکزیت دے رہی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی کامیاب ثالثی کو بھارت کے لیے ایک زوردار دھچکا قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا ایک بڑا کھلاڑی بن کر ابھرا ہے، جبکہ بھارت اس منظرنامے سے باہر ہو چکا ہے۔ 1971 جیسے تاریخی کردار کی واپسی: سوشانت سنگھ کے مطابق، پاکستان نے ایک بار پھر اپنا وہ تاریخی مقام حاصل کر لیا ہے جو اسے 1971 میں حاصل تھا، جب وہ عالمی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا تھا۔ آج پاکستان بیک وقت چین، امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ایک مضبوط کڑی بن چکا ہے۔
آرٹیکل میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ عالمی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنماؤں نے مودی کے بیانیے کے بجائے پاکستان کی حکمتِ عملی پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس سے واشنگٹن میں بھارت کا اثر و رسوخ کمزور پڑا ہے۔
بھارتی تجزیہ کار نے اعتراف کیا کہ مودی حکومت صرف بیانات اور پروپیگنڈے تک محدود رہی، جبکہ پاکستان نے خاموشی سے "عملی سفارتکاری" کے ذریعے عملی نتائج حاصل کیے۔ چین سے مضبوط تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ قربت بڑھانا پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، جس نے بھارت کے تزویراتی (Strategic) مفادات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
