Get Alerts

پاکستان اور قازقستان کا دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ

پاکستان اور قازقستان کا دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد :  پاکستان اور قازقستان نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو ایک سال میں 1 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ عزم دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی ایک اہم تقریب کے دوران کیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے شرکت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ قازقستان کے صدر اور ان کے وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کرتے ہیں، اور یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی جہت دینے کے لیے بہت اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 23 سال بعد قازقستان کے کسی صدر کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے، اور اس دورے کے دوران صدر توکایووف کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طے پانے والے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور ثقافتی تعاون بڑھانے میں مدد دیں گی۔

شہباز شریف نے غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے پاکستان اور قازقستان کے مشترکہ کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا، اور کہا کہ دونوں ممالک غزہ بورڈ آف پیس کے رکن ہیں اور امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید بہتری کے امکانات ہیں، اور انہوں نے ایک سال کے اندر دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان توانائی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھا سکتے ہیں اور شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں ان کا شاندار استقبال اور مہمان نوازی پر وہ پاکستان کے عوام اور حکومت کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ اقدار اور روایات کے حامل ہیں، اور دونوں ممالک کے تعلقات میں وزیراعظم شہباز شریف کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے پاکستان کی دفاعی ترقی اور خطے میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

قبل ازیں، پاکستان اور قازقستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے کئی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں میں کان کنی، پٹرولیم، اقوام متحدہ کے امن دستوں، قیدیوں کے تبادلے، کسٹم، ریلوے، صحت، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اعلیٰ تعلیم، مالیاتی نظم و نسق، اور بندرگاہوں کے شعبے میں مزید تعاون بڑھایا جائے گا۔ 

ٹیگز: