نیویارک/واشنگٹن:امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے اعلان نے عالمی مارکیٹ میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس بڑی سفارتی کامیابی کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اچانک کریش کر گئیں، جس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ کی قیمت گر کر 88 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے اور سپلائی لائن بحال ہونے کی یقین دہانی نے سرمایہ کاروں کے خدشات ختم کر دیے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں اس بڑی کمی سے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی کے بوجھ میں ہلکا پن آنے کی قوی امید پیدا ہو گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کے فیصلے کا عالمی مالیاتی منڈیوں نے بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ نیویارک، لندن اور ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں زبردست مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ انڈیکس میں سینکڑوں پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تجارتی راستوں کی بحالی سے بین الاقوامی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کی اولین ترجیح غیر جانبدار اور متاثرہ ممالک کے جہازوں کو بحفاظت نکالنا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی نمائندے ایران کے ساتھ انتہائی مثبت بات چیت کر رہے ہیں، جو خطے میں امن کی نئی راہ ہموار کرے گی۔